(۱۲۹۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ سَابِقٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو یَعْنِی ابْنَ أَبِی قَیْسٍ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنِ ابْنِ أَبِی الْعَجْفَائِ السُّلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَأُخْرَی مَا تَقُولُونَہَا الرَّجُلُ یَخْرُجُ فَیُقَاتِلُ فَتَقُولُونَ اسْتُشْہِدَ فُلاَنٌ وَلَعَلَّہُ أَنْ یَکُونَ قَدْ خَرَجَ قَدْ مَلأَ عَجُزَ دَابَّتِہِ دَنَانِیرَ أَوْ دَرَاہِمَ التِّجَارَۃِ فَلاَ تَقُولُوا ذَلِکَ وَلَکِنْ قُولُوا کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہُ -ﷺ- : مَنْ قُتِلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ فِی الْجَنَّۃِ ۔
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی الْعَجْفَائِ السُّلَمِیِّ لَمْ یَذْکُرِ ابْنَہُ فِی إِسْنَادِہِ۔
[حسن۔ تقدم قبلہ]
(١٢٩١١) حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : جن کو تم کہتے ہو کہ آدمی نکلا وہ لڑا ۔ پس تم کہتے ہو : فلاں شہید کردیا گیا اور شاید کہ وہ نکلا ہوتا کہ اپنی سواری تجارت کے دنانیر اور درہموں سے ۔ پس تم یہ نہ کہو بلکہ کہو جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جو اللہ کے راستے میں قتل کردیا گیا۔ پس وہ جنتی ہے۔
(٣٥) باب الْمَمْلُوکِ وَالْمَرْأَۃِ یُرْضَخُ لَہُمَا وَلاَ یُسْہَمُ
غلام اور عورتوں کو انعام ملے گا ان کے لیے حصہ مقرر نہیں ہے