(۱۲۹۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِی عَنْبَسَۃُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَصْحَابِہِ خَیْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحُوہَا فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یُسْہِمَ لِی مِنَ الْغَنِیمَۃِ فَقَالَ بَعْضُ بَنِی سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ: لاَ تُسْہِمْ لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ فَقَالَ ابْنُ سَعِیدٍ: وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّی عَلَیْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ یَنْعَی عَلَیَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَکْرَمَہُ اللَّہُ عَلَی یَدَیَّ وَلَمْ یُہِنِّی عَلَی یَدَیْہِ ۔ قَالَ سُفْیَانُ فَلاَ أَحْفَظُہُ أَنَّہُ قَالَ: أَسْہَمَ لَہُ أَوْ لَمْ یُسْہِمْ۔قَالَ سُفْیَانُ سَمِعْتُ إِسْمَاعِیلَ بْنَ أُمَیَّۃَ سَأَلَ الزُّہْرِیَّ عَنْہُ وَأَنَا حَاضِرٌ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۸۲۷]
(١٢٩١٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتی ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے پاس آیا، اس وقت جب انھوں نے خیبر فتح کیا، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میرے لیے بھی غنیمت سے حصہ رکھا جائے۔ بنی سعید کے کسی شخصنے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اسے حصہ نہ دیں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ ابن قوقل کا قاتل ہے۔ سعید کے بیٹے نے کہا : کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آگیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا الزام مجھ پر لگاتا ہے۔ جسی اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچا لیا۔