(۱۲۹۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ الدَّیْرَعَاقُولِی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ فِیمَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَمْوَالِ ہَوَازِنَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعْطِی رِجَالاً مِنْ قُرَیْشٍ الْمِائَۃَ مِنَ الإِبِلِ فَقَالُوا یَغْفِرُ اللَّہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُعْطِی قُرَیْشًا وَیَتْرُکُنَا وَسُیُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِہِمْ قَالَ فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَقَالَتِہِمْ فَأَرْسَلَ إِلَی الأَنْصَارِ فَجَمَعَہُمْ فِی قُبَّۃٍ مِنْ أَدَمٍ لَمْ یَدْعُ مَعَہُمْ غَیْرَہُمْ فَلَمَّا جَائَ ہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا حَدِیثٌ بَلَغَنِی عَنْکُمْ؟ ۔ فَقَالَ لَہُ فُقَہَاؤُہُمْ : أَمَّا ذَوُو رَأْیِنَا فَلَمْ یَقُولُوا شَیْئًا وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِیثَۃٌ أَسْنَانُہُمْ فَقَالُوا : یَغْفِرُ اللَّہُ لِرَسُولِ اللَّہِ یُعْطِی قُرَیْشًا وَیَتْرُکُنَا وَسُیُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِہِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : فَإِنِّی أُعْطِی رِجَالاً حَدِیثِی عَہْدٍ بِکُفْرٍ أَتَأَلَّفُہُمْ أَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَی رِحَالِکُمْ بِرَسُولِ اللَّہِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِہِ خَیْرٌ مِمَّا یَنْقَلِبُونَ بِہِ ۔ قَالُوا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ رَضِینَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِی أَثَرَۃً شَدِیدَۃً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوُا اللَّہَ وَرَسُولَہُ عَلَی الْحَوْضِ ۔ قَالَ أَنَسٌ : إِذًا نَصْبِرَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَإِنِّی عَلَی الْحَوْضِ ۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِیہِ : فَإِنِّی عَلَی الْحَوْضِ۔
[صحیح۔ بخاری ۴۳۳۱۔ مسلم ۱۰۵۹]
(١٢٩٣٤) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ انصار کے آدمیوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہوازن کے اموال میں سے اللہ نے جو اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا ہے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے آدمیوں کو ایک سو اونٹ دیے۔ انھوں نے کہا : اللہ رسول کو معاف کرے، آپ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑتے ہیں اور ہماری تلواریں ان کے خون سے لت پت ہیں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی بات بیان کی گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا اور چمڑے کے خیمے میں جمع کرلیا، کسی کو نہ چھوڑا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو آپ نے فرمایا : مجھے تمہاری طرف سے کیا بات پہنچی ہے ؟ ان کے سمجھ دار لوگوں نے کہا : ہمارے معزز لوگوں نے کچھ نہیں کہا اور ہمارے نو عمر لوگ جو ہیں انھوں نے ایسی بات کہی ہے، انھوں نے کہا ہے کہ اللہ اپنے رسول کو معاف کرے کہ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑتے ہیں اور ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اس طرح میں ان کی دلجوئی کرتا ہوں، کیا تم اس پر راضی نہیں کہ دوسرے لوگ مال و دولت ساتھ لے جائیں اور تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔ انصار نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم راضی ہیں۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، اس وقت صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو۔ میں حوض کوثر پر ملوں گا۔ انس (رض) نے کہا : ہم صبر کریں گے۔