(۱۲۹۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَاہِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّ أَیُّوبَ حَدَّثَہُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ بِالْجِعْرَانَۃِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی نَذَرْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ أَعْتَکِفَ یَوْمًا فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَکَیْفَ تَرَی؟ قَالَ : اذْہَبْ فَاعْتَکَفْ یَوْمًا ۔ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ أَعْطَاہُ جَارِیَۃً مِنَ الْخُمُسِ فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَبَایَا النَّاسِ فَقَالَ عُمَرُ : یَا عَبْدَ اللَّہِ اذْہَبْ إِلَی تِلْکَ الْجَارِیَۃِ فَخَلِّ سَبِیلَہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَاہِرِ وَاسْتَشْہَدَ بِہِ الْبُخَارِیُّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۶۵۶]
(١٢٩٣٧) حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا، آپ جعرانہ میں تھے، لوٹنے کے بعد فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک دن کا اعتکاف کروں گا، پس آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں خمس سے ایک لونڈی دی تھی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا تو عمر (رض) نے کہا : اے عبداللہ ! جاؤ اس لونڈی کو بھی آزاد کر دو ۔