(۱۲۹۷۷) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ شُعَیْبٍ أَوْ قَالَ ابْنُ أَبِی شُعَیْبٍ عَنْ أُمِّ الْعَلاَئِ : أَنَّ أَبَاہَا انْطَلَقَ بِہَا إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَفَرَضَ لَہَا فِی الْعَطَائِ وَہِی صَغِیرَۃٌ وَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا الصَّبِیُّ الَّذِی أَکَلَ الطَّعَامَ وَعَضَّ عَلَی الْکِسْرَۃِ بِأَحَقِّ بِہَذَا الْعَطَائِ مِنَ الْمَوْلُودِ الَّذِی یَمَصُّ الثَّدْیَ۔
وَہَذِہِ الآثَارُ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْمَعْنَی مَحْمُولَۃٌ عَلَی أَنَّہُ کَانَ یَفْرِضُ لِلرَّجُلِ قَدْرَ کِفَایَتِہِ وَکِفَایَۃِ أَہْلِہِ وَوَلَدِہِ وَعَبْدِہِ وَدَابَّتِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ ابن ابی شیبہ ۳۲۸۹۴]
(١٢٩٧٧) ام العلاء سے روایت ہے کہ اس کے والد اسے علی (رض) کے پاس لے گئے، پس علی (رض) نے اس کے لیے حصہ مقرر کیا اور وہ چھوٹی تھیں اور حضرت علی (رض) نے کہا : جو بچہ کھانا کھائے اور دانتوں سے کچھ کاٹ لے تو وہ اس مولود سے زیادہ حق دار ہے جو ابھی دودھ پیتا ہے۔
یہ سارے اثر دلالت کرتے ہیں کہ وہ آدمی کے لیے اس کی گزر بسر کے بقدر اور اس کے اہل، غلام، اولاد اور اس کی سواری کے بقدر اس کا حصہ مقرر کرتے تھے۔