(۱۲۹۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّیْمِیُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ الْمُہَاجِرِینَ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ وَالأَنْصَارَ عَلَی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ وَمَنْ لَمْ یَشْہَدْ بَدْرًا مِنْ أَبْنَائِ الْمُہَاجِرِینَ عَلَی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ فَکَانَ مِنْہُمْ عُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الأَسَدِ الْمَخْزُومِیُّ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ الأَسَدِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ لَیْسَ مِنْ ہَؤُلاَئِ إِنَّہُ وَإِنَّہُ وَإِنَّہُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنْ کَانَ لِی حَقٌّ فَأَعْطِنِیہِ وَإِلاَّ فَلاَ تُعْطِنِی فَقَالَ عُمَرُ لاِبْنِ عَوْفٍ : اکْتُبْہُ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ وَاکْتُبْنِی عَلَی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : لاَ أُرِیدُ ہَذَا فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّہِ لاَ أَجْتَمِعُ أَنَا وَأَنْتَ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَفَّانُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔ [ضعیف]
(١٢٩٩٨) سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مہاجرین کو لکھا، پانچ ہزار اور انصار کو چار ہزار اور مہاجرین کے بیٹوں میں سے جو بدر میں حاضر نہیں ہوئے ان کے لیے چار ہزار۔ ان میں عمر بن ابی سلمہ اور اسامہ بن زید اور محمد بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر (رض) تھے۔ عبدالرحمن بن عوف (رض) نے کہا : ابن عمر (رض) ان میں نہیں ہیں، وہ، وہ ، وہ ہیں۔ ابن عمر (رض) نے ابن عوف سے کہا : اس کے لیے پانچ ہزار لکھو اور میرے لیے چار ہزار لکھا۔ عبداللہ نے کہا : میں اس کا ارادہ نہیں رکھتا۔ عمر (رض) نے کہا، اللہ کی قسم ! میں اور تو پانچ ہزار پر جمع نہیں ہوسکتے۔