hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13043

.

سنن البيهقي

13043
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا صَلَّی صَلاَۃً جَلَسَ فَمَنْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃً کَلَّمَہُ وَمَنْ لَمْ تَکُنْ لَہُ دَخَلَ فَصَلَّی ذَاتَ یَوْمٍ فَلَمْ یَجْلِسْ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ : یَا یَرْفَأُ أَبِأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ شَکْوَی قَالَ لاَ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ قَالَ : فَجَائَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَلَسَ فَلَمْ یَلْبَثْ أَنْ جَائَ یَرْفَأُ فَقَالَ : قُمْ یَا ابْنَ عَفَّانَ قُمْ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَدَخَلْنَا عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعِنْدَہُ صُبْرَۃٌ مِنَ الْمَالِ عَلَی کُلِّ صُبْرَۃٍ مِنْہَا کَتِفٌ فَقَالَ : إِنِّی نَظَرْتُ فِی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ فَوَجَدْتُکُمَا أَکْثَرَ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَشِیرَۃً فَخُذَا ہَذَا الْمَالَ فَاقْسِمَاہُ فَإِنْ بَقِیَ شَیْئٌ فَرُدَّاہُ فَأَمَّا عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَثَا وَأَمَّا أَنَا فَقُلْتُ وَإِنْ نَقَصَ شَیْئٌ أَتْمَمْتَہُ لَنَا قَالَ : شِنْشِنَۃٌ مِنْ أَخْشَنَ أَمَا تَرَی ہَذَا کَانَ عِنْدَ اللَّہِ وَمُحَمَّدٍ وَأَصْحَابُہُ یَأْکُلُونَ الْقِدَّ قَالَ قُلْتُ : بَلَی وَاللَّہِ لَقَدْ کَانَ ہَذَا عِنْدَ اللَّہِ وَمُحَمَّدٍ -ﷺ- وَأَصْحَابُہُ یَأْکُلُونَ الْقِدَّ وَلَوْ فُتِحَ ہَذَا عَلَی مُحَمَّدٍ -ﷺ- صَنَعَ غَیْرَ الَّذِی تَصْنَعُ قَالَ : فَکَأَنَّہُ فَزِعَ مِنْہُ فَقَالَ : وَمَا کَانَ یَصْنَعُ قُلْتُ لأَکَلَ وَأَطْعَمَنَا قَالَ فَنَشَجَ حَتَّی اخْتَلَفَتْ أَضْلاَعُہُ وَقَالَ : لَوَدِدْتُ أَنِّی خَرَجْتُ مِنْہَا کَفَافًا لاَ عَلَیَّ وَلاَ لِی۔ [حسن]
(١٣٠٣٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) جب نماز پڑھاتے تو بیٹھ جاتے جس کی کوئی ضرورت ہوتی وہ آپ سے بات کرتا، پس ایک دن نماز پڑھائی اور نہ بیٹھے میں گیا میں نے کہا اے یرفاء کیا امیرالمومنین بیمار تو نہیں ہیں ؟ اس نے کہا نہیں الحمد للہ۔ پس عثمان آئے وہ بھی بیٹھ گئے تھوڑی ہی دیر بعد یرفاء آگیا اس نے کہا اے ابن عفان اور اے ابن عباس (رض) کھڑے ہوجاؤ۔ پس ہم عمر (رض) کے پاس گئے اور آپ کے پاس مال کا ڈھیر تھا ہر ڈھیر میں سہارا تھا۔ اس نے کہا میں نے اہل مدینہ میں اکثر خاندان والا تم دونوں کو پایا ہے۔ پس یہ مال لے جاؤ اور تقسیم کر دو اگر کوئی چیز بچ جائے تو اسے لوٹا دینا، پس عثمان (رض) شرمندہ ہوگئے میں نے کہا اگر کوئی چیز کم ہوئی تو دیں گے ؟ عمر (رض) نے کہا عادت ہے برے اخلاق سے۔ کیا تم خیال کرتے ہو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد اور ان کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے، میں نے کہا ہاں۔ اللہ کی قسم ! یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے اور اگر یہ (مال) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آتا تو وہ ایسا نہ کرتے جیسا تم کر رہے ہو گویا وہ اس سے ڈر گئے اور کہا وہ کیا کرتے ؟ میں نے کہا، آپ کھاتے اور ہمیں کھلاتے۔ وہ رونے لگ گئے، حتیٰ کہ ہچکی بندھ گئی اور کہا : میں چاہتا ہوں میں اس سے ایسے نکل جاؤں کہ میرے اوپر کوئی چیز نہ ہو۔