(۱۳۰۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَعْطَی بَجِیلَۃَ رُبُعَ السَّوَادِ فَأَخَذُوہُ سِنِینَ ثُمَّ وَفَدَ جَرِیرٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : لَوْلاَ أَنِّی قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَکُنْتُمْ عَلَی مَا قُسِمَ لَکُمْ فَأَرَی أَنْ تَرُدَّہُ فَرَدَّہُ وَأَجَازَہُ بِثَمَانِینَ دِینَارًا۔[حسن]
(١٣٠٤٣) قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے اپنے قبیلہ کو لشکر کا چوتھائی دیا، چند سال انھوں نے رکھا، پھر جریر (رض) وفد بن کر عمر (رض) کے پاس آئے۔ پس کہا : اگر میں تقسیم کرنے والا نہ ہوتا تو سوال کیا جاتا البتہ تم ہو اس پر جو تمہارے لیے تقسیم کیا گیا ہے، پس میرے خیال میں آپ اسے لوٹا دیں پس آپ نے اسے لوٹا دیا اور اسے اسی دینار کی اجازت دے دی۔