(۱۳۰۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُثْمَانُ بْنُ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیُّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ فِی مَسْجِدِ مِنًی فَسَأَلَہُ عَنْ إِرْخَائِ طَرَفِ الْعِمَامَۃِ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ : أُحَدِّثُکَ عَنْہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ بِعِلْمٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَ سَرِیَّۃً وَأَمَّرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَیْہَا وَعَقَدَ لَہُ لِوَائً فَقَالَ : خُذْہُ بِاسْمِ اللَّہِ وَبَرَکَتِہِ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ وَعَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عِمَامَۃٌ مِنْ کَرَابِیسَ مَصْبُوغَۃٍ بِسَوَادٍ فَدَعَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَحَلَّ عِمَامَتَہُ ثُمَّ عَمَّمَہُ بِیَدِہِ وَأَفْضَلَ عِمَامَتَہُ مَوْضِعَ أَرْبَعِ أَصَابِعَ أَوْ نَحْوِ ذَلِکَ فَقَالَ : ہَکَذَا فَاعْتَمَّ فَإِنَّہُ أَحْسَنُ وَأَجْمَلُ ۔
عُثْمَانُ بْنُ عَطَائٍ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ [ضعیف]
(١٣٠٦٥) عثمان بن عطاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ابن عمر کے پاس آیا، وہ مسجد منیٰ میں تھے، پس اس نے عمامے کے کنارے کے بارے میں سوال کیا، ابن عمر (رض) نے اسے کہا : میں تجھے ان شاء اللہ علم کے ساتھ بیان کرتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر روانہ کیا اور عبدالرحمن بن عوف کو اس پر امیر مقرر کیا اور اسے جھنڈا دیا اور کہا : اسے اللہ کے نام اور برکت سے پکڑو اور کہا : عبدالرحمن پر کر ابیس کا عمامہ تھا۔ جس پر سیاہ کڑھائی کی گئی تھی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلایا، پس اس کا عمامہ اتارا۔ پھر اپنے ہاتھ سے اسے باندھا اور افضل عمامہ چار انگلیوں جتنا ہے یا اس جیسا ۔ پھر کہا : یہ اچھا اور خوبصورت ہے۔