hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13075

.

سنن البيهقي

13075
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مَوْہَبٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَوْہَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : قَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ عِنْدِ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ بِثَمَانِمِائَۃِ أَلْفِ دِرْہَمٍ فَقَالَ لِی : بِمَاذَا قَدِمْتَ قُلْتُ قَدِمَتُ بِثَمَانِمِائَۃِ أَلْفِ دِرْہَمٍ فَقَالَ : إِنَّمَا قَدِمْتَ بِثَمَانِینَ أَلْفِ دِرْہَمٍ قُلْتُ : بَلْ قَدِمْتُ بِثَمَانِمِائَۃِ أَلْفِ دِرْہَمٍ قَالَ : أَلَمْ أَقُلْ لَکَ إِنَّکَ یَمَانٍ أَحْمَقُ إِنَّمَا قَدِمْتَ بِثَمَانِینَ أَلْفِ دِرْہَمٍ فَکَمْ ثَمَانُمِائَۃِ أَلْفٍ فَعَدَدْتُ مِائَۃَ أَلْفٍ وَمِائَۃَ أَلْفٍ حَتَّی عَدَدْتُ ثَمَانَمِائَۃِ أَلْفٍ قَالَ : أَطَیِّبٌ وَیْلَکَ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَبَاتَ عُمَرُ لَیْلَتَہُ أَرِقًا حَتَّی إِذَا نُودِیَ بِصَلاَۃِ الصُّبْحِ قَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَا نِمْتَ اللَّیْلَۃَ۔ قَالَ : کَیْفَ یَنَامُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَدْ جَائَ النَّاسُ مَا لَمْ یَکُنْ یَأْتِیہِمْ مِثْلُہُ مُنْذُ کَانَ الإِسْلاَمُ فَمَا یُؤْمِنُ عُمَرَ لَوْ ہَلَکَ وَذَلِکَ الْمَالُ عِنْدَہُ فَلَمْ یَضَعْہُ فِی حَقِّہِ۔ فَلَمَّا صَلَّی الصُّبْحَ اجْتَمَعَ إِلَیْہِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابٌ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُمْ : إِنَّہُ قَدْ جَائَ النَّاسَ اللَّیْلَۃَ مَا لَمْ یَأْتِہِمْ مِثْلَہُ مُنْذُ کَانَ الإِسْلاَمُ وَقَدْ رَأَیْتُ رَأْیًا فَأَشِیرُوا عَلَیَّ رَأَیْتُ أَنْ أَکِیلَ لِلنَّاسِ بِالْمِکْیَالِ فَقَالُوا : لاَ تَفْعَلْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِی الإِسْلاَمِ وَیَکْثُرُ الْمَالُ وَلَکِنْ أَعْطِہِمْ عَلَی کِتَابٍ فَکُلَّمَا کَثُرَ النَّاسُ وَکَثُرُ الْمَالُ أَعْطَیْتَہُمْ عَلَیْہِ قَالَ فَأَشِیرُوا عَلَیَّ بِمَنْ أَبْدَأُ مِنْہُمْ قَالُوا : بِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّکَ وَلِیُّ ذَلِکَ وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ أَعْلَمُ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ أَبْدَأُ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ الأَقْرَبِ فَالأَقْرَبِ إِلَیْہِ فَوَضَعَ الدِّیوَانَ عَلَی ذَلِکَ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ : بَدَأَ بِہَاشِمٍ وَالْمُطَّلِبِ فَأَعْطَاہُمْ جَمِیعًا ثُمَّ أَعْطَی بَنِی عَبْدِ شَمْسٍ ثُمَّ بَنِی نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَإِنَّمَا بَدَأَ بِبَنِی عَبْدِ شَمْسٍ أَنَّہُ کَانَ أَخَا ہَاشِمٍ لأُمِّہِ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ : فَأَوَّلُ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ بَنِی ہَاشِمٍ وَ الْمُطَّلِبِ فِی الدَّعْوَۃِ عَبْدُ الْمَلِکِ فَذَکَرَ فِی ذَلِکَ قِصَّۃً۔ [ضعیف]
(١٣٠٧٠) عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب فرماتے ہیں : میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا، وہ کہتے تھے، میں ابو موسیٰ سے عمر بن خطاب (رض) کے پاس آٹھ سو ہزار درہم لے کر آیا۔ عمر (رض) نے مجھے کہا : کیا لے کر آئے ہو ؟ میں نے کہا : آٹھ سو ہزار درہم، عمر نے کہا : آٹھ ہزار درہم لائے ہو ؟ میں نے کہا : بلکہ آٹھ سو ہزار درہم لایا ہوں، عمر نے کہا : میں نے تجھے کہا نہیں کہ تو یمنی احمق ہے تو اسی ہزار درہم لایا ہے، پس آٹھ سو ہزار کتنے ہیں، پس میں ایک سو ہزار کر کے گنوایا حتیٰ کہ میں نے پورے کردیے۔ عمر نے کہا : کیا واقعی ایسے ہی ہے ؟ کہا : ہاں۔ پس عمر (رض) نے رات بڑی رقت میں گزاری حتیٰ کہ صبح کی نماز کے لیے بلایا گیا تو اس کی بیوی نے کہا : اے امیرالمومنین ! رات آپ سوئے نہیں ہیں۔ کہا : عمر کیسے سوتا اور تحقیق لوگ ایسے آئے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہ آئے تھے، پس عمر مومن نہ تھا اگر وہ فوت ہوجاتا اور اس کے پاس مال ہوتا، پس اسے اس کے مصرف میں لگایا ہوتا۔ جب صبح کی نماز پڑھائی تو صحابہ (رض) کی ایک جماعت ان کے پاس جمع ہوگئی۔ ان سے کہا : رات ایسے لوگ آئے کہ اس سے پہلے اسلام میں کبھی نہ آئے تھے اور میں نے ایک رائے دیکھی ہے، پس مجھے بتلاؤ، میں نے دیکھا ہے کہ میں لوگوں کو وزن کر کے دے رہا ہوں۔ انھوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! ایسا نہ کریں، لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور مال زیادہ ہے، لیکن آپ کتاب کے مطابق دیں، جب لوگ زیادہ ہوں اور مال بھی زیادہ ہو تو ان کو دے دینا، کہا : پس تم مجھے بتاؤ کس سے ابتدا کروں ؟ انھوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! اپنے آپ سے ابتداکرو آپ خلیفہ ہیں اور بعض نے کہا : امیرالمومنین بہتر جانتے ہیں، عمر (رض) نے کہا : لیکن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابتداء کرتا ہوں، پھر قریبی قریبی۔ پس رجسٹر رکھا، عبیداللہ نے کہا : ہاشم اور مطلب سے ابتدا کریں۔ ان سب کو دیں، پھر بنی عبدشمس کو دیں، پھر بنی نوفل کو اور انھوں نے بنی عبدشمس سے ابتدا کی؛ کیونکہ وہ بنی ہاشم کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ عبیداللہ نے کہا : پہلے جس نے بنی ہاشم اور بنی مطلب میں فرق کیا وہ عبدالملک ہے۔