hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13084

.

سنن البيهقي

13084
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۰۷۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِیدٍ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا شَہِدْتُ حِلْفًا إِلاَّ حِلْفَ قُرَیْشٍ مِنْ حِلْفِ الْمُطَیَّبِینَ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِہِ حُمْرَ النَّعَمِ وَإِنِّی کُنْتُ نَقَضْتُہُ ۔ وَالْمُطَیَّبُونَ ہَاشِمُ وَأُمَیَّۃُ وَزُہْرَۃُ وَمَخْزُومُ۔ قَالَ الشَّیْخُ : لاَ أَدْرِی ہَذَا التَّفْسِیرُ مِنْ قَوْلِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَوْ مِنْ دُونِہِ قَالَ الشَّیْخُ : وَبَلَغَنِی أَنَّہُ إِنَّمَا قِیلَ حِلْفُ الْمُطَیَّبِینَ لأَنَّہُمْ غَمَسُوا أَیْدِیَہُمْ فِی طِیبٍ یَوْمَ تَحَالَفُوا وَتَصَافَقُوا بَأَیْمَانِہِمْ وَذَلِکَ حِینَ وَقَعَ التَّنَازُعُ بَیْنَ بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ وَبَنِی عَبْدِ الدَّارِ فِیمَا کَانَ بِأَیْدِیہِمْ مِنَ السِّقَایَۃِ وَالْحِجَابَۃِ وَالرِّفَادَۃِ وَاللِّوَائِ وَالنَّدْوَۃِ فَکَانَ بَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی فِی جَمَاعَۃٍ مِنْ قَبَائِلِ قُرَیْشٍ تَبَعًا لِبَنِی عَبْدِ مَنَافٍ فَکَانَ لَہُمْ بِذَلِکَ شَرَفٌ وَفَضِیلَۃٌ وَصَنِیعَۃٌ فِی بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ وَقَدْ سَمَّاہُمْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ فَقَالَ الْمُطَیَّبُونَ مِنْ قَبَائِلِ قُرَیْشٍ بَنُو عَبْدِ مَنَافٍ : ہَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ وَعَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٍ وَبَنُو زُہْرَۃَ وَبَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی وَبَنُو تَیْمٍ وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ فِہْرٍ خَمْسُ قَبَائِلَ۔قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَالَ بَعْضُہُمْ ہُمْ حِلْفٌ مِنَ الْفُضُولِ۔ [ضعیف]
(١٣٠٧٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں قریش کے ایک پاکیزہ معاہدے میں شریک ہوا ہوں اور میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے سرخ اونٹ بھی ہوں تو اسے توڑ دوں اور مطیبون ہاشم، امیہ، زہرہ اور مخزم ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ یہ ابوہریرہ (رض) کے قول سے ہے یا اس کے علاوہ سے اسے حلف المطیبین کہا گیا؛ اس لیے کہ جس دن انھوں نے معاہدہ کیا تھا۔ اس دن انھوں نے اپنے ہاتھ خوشبو میں ڈبوئے تھے اور انھوں نے قسمیں کھائیں تھیں اور یہ اس وقت ہوا تھا جب بنی عبدمناف اور بنی عبدالدار کے درمیان تنازع تھا، جو ان میں گھاٹ، جھنڈا، ندوہ اور دیگر ذمہ داریوں کے بارے میں ہوا تھا، پس قریش کے قبائل میں سے بند اسد بن عبدالعزیٰ ، بنی عبد مناف کے تابع تھے۔ ان کے لیے اس وجہ سے بنی عبد مناف میں شرف اور فضیلت تھی اور تحقیق محمد بن اسحاق ان کا نام لیا، پس کہا : مطیبون قریش کے قبائل تھے۔ بنو عبدمناف سے، ہاشم اور عبدالمطلب، عبدشمس، نوفل بنو زہرہ، بنو اسد بن عبدالعزیٰ ، بنو تیم اور بنو حارث بن فہر پانچ قبائل تھے۔ امام شافعی (رح) نے کہا : بعض نے کہا کہ وہ حلف الفضول والا معاہدہ تھا۔