(۱۳۰۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : یَا ابْنَ أُخْتِی کَانَ أَبَوَاکَ تَعْنِی الزُّبَیْرَ وَأَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِنَ الَّذِینَ اسْتَجَابُوا لِلَّہِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَہُمُ الْقَرْحُ قَالَتْ : لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِکُونَ مِنْ أُحُدٍ وَأَصَابَ النَّبِیَّ -ﷺ- وَأَصْحَابَہُ مَا أَصَابَہُمْ خَافَ أَنْ یَرْجِعُوا فَقَالَ: مَنْ یَنْتَدِبُ لِہَؤُلاَئِ فِی آثَارِہِمْ حَتَّی یَعْلَمُوا أَنَّ بِنَا قُوَّۃً۔ قَالَ فَانْتَدَبَ أَبُو بَکْرٍ وَالزُّبَیْرُ فِی سَبْعِینَ فَخَرَجُوا فِی آثَارِ الْقَوْمِ فَسَمِعُوا بِہِمْ وَانْصَرَفُوا بِنِعْمَۃٍ مِنَ اللَّہِ وَفَضْلٍ قَالَ لَمْ یَلْقَوْا عَدُوًّا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔
وَأَمَّا زُہْرَۃُ فَإِنَّہُ کَانَ أَخًا لِقُصَیِّ بْنِ کِلاَبٍ وَمِنْ أَوْلاَدِہِ مِنَ الْعَشَرَۃِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٣٠٨٨) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ان سے کہا : اے میری بہن کے بیٹے ! تیرے دونوں باپ زبیر اور ابوبکر (رض) ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے مصیبت کے وقت اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا تھا۔ کہا : جب احد کے دن مشرکین پھر کٹے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو جو تکلیفیں پہنچیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ڈرے کہ وہ پھر نہ لوٹ آئیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کون کون ان کا پیچھا کرنے کی تیاری کرے گا، حتیٰ کہ وہ جان لیں کہ ہمارے پاس قوت ہے، پس ابوبکر، زبیر (رض) ان ستر آدمیوں میں تھے جو ان کے پیچھے گئے۔ انھوں نے سنا کہ وہ اللہ کے فضل اور نعمت سے لوٹے ہیں۔ کہا : وہ دشمن کو نہیں ملے۔