(۱۳۱۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا رَجَائُ بْنُ مُرَجَّا الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا شَاذَانُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَۃَ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ أَخُو عَبْدَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ یَعْنِی أَبَاہُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ زَیدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : مَرَّ أَبُو بَکْرٍ وَالْعَبَّاسُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ وَہُمْ یَبْکُونَ فَقَالَ : مَا یُبْکِیکُمْ قَالُوا : مَجْلِسُنَا مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ فَخَرَجَ وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَہُ بِحَاشِیَۃِ ثَوْبٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ یَصْعَدْ بَعْدَ ذَلِکَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ َقَالَ : أُوصِیکُمْ بِالأَنْصَارِ فَإِنَّہُمْ کَرِشِی وَعَیْبَتِی وَقَدْ قَضَوُا الَّذِی عَلَیْہِمْ وَبَقِیَ الَّذِی لَہُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِیئِہِمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ شَاذَانَ۔ [صحیح]
(١٣١٠٨) ہشام بن زید فرماتے ہیں : میں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، وہ کہتے تھے۔ ابوبکر اور عباس (رض) انصار کی کسی مجلس کے پاس سے گزرے اور وہ رو رہے تھے۔ کہا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس کو یاد کر کے رو رہے ہیں۔ پس ابوبکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا : آپ آئے اور آپ کے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ منبر پر چڑھے اور اس کے بعد منبر پر نہ چڑھ سکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمد وثناء بیان کی، پھر کہا : میں تم کو انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم وجان ہیں، انھوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں، لیکن اس کا بدلہ جو انھیں چاہیے تھا وہ ملنا ابھی باقی ہے۔ اس لیے تم بھی ان کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا۔