(۱۳۱۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الدَّامِغَانِیُّ بِبَیْہَقَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو ہِشَامٍ الرِّفَاعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا غُلاَمَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ : وَعَلَیْکَ ۔ قَالَ : إِنِّی رَجُلٌ مِنْ أَخْوَالِکَ مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ بَکْرٍ وَإِنِّی رَسُولُ قَوْمِی إِلَیْکَ وَوَافِدُہُمْ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِی کِتَابِکَ وَأَمَرَتْنَا رُسُلُکَ أَنْ نَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِی أَمْوَالِنَا وَنَضَعَہُ فِی فُقَرَائِنَا فَأَنْشُدُکَ بِاللَّہِ أَہُوَ أَمَرَکَ بِذَلِکَ قَالَ : نَعَمْ۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذِہِ اللَّفْظَۃُ إِنْ کَانَتْ مَحْفُوظَۃً دَلَّتْ عَلَی جَوَازِ تَفْرِیقِ رَبِّ الْمَالِ زَکَاۃَ مَالِہِ بِنَفْسِہِ وَحَدِیثُ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ : آللَّہُ أَمَرَکَ أَنْ تَأْخُذَ ہَذِہِ الصَّدَقَۃَ مِنْ أَغْنِیَائِنَا فَتَقْسِمَہَا فِی فُقَرَائِنَا إِسْنَادُہُ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١٣١٢١) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : السلام علیکم بنو عبدالمطلب کے غلام ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وعلیک۔ اس نے کہا کہ میں سعد بن ابوبکر کی اوالاد میں سے تیرے ماموؤں میں سے ہوں اور میں اپنی قوم کا نمائندہ اور وفد ہوں۔ پھر راوی نے حدیث بیان کی اور یہ الفاظ بھی بیان کیے۔ ہم نے آپ کی کتاب میں پایا اور آپ کے رسولوں نے حکم دیا کہ ہم اپنے زائد مال اپنے فقراء پر خرچ کریں ۔ میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اس نے تجھے اس بات کا حکم دیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں۔ “
شیخ فرماتے ہیں : یہ الفاظ اگرچہ محفوظ ہیں، لیکن صاحب مال کے خود زکوۃ والے اموال کو الگ کرنے پر دلالت کرتے ہیں، اس طرح کے قصہ میں حدیث انس (رض) بھی ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اغنیا سے صدقہ لیں اور ہمارے فقرا پر تقسیم کریں ؟ اس کی اسناد صحیح ہیں۔ واللہ اعلم