(۱۳۱۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ قَالَ : مَا مِنْ رَجُلٍ یَمُوتُ فَیَتْرُکُ غَنَمًا أَوْ إِبِلاً أَوْ بَقَرًا لَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہَا إِلاَّ جَائَ تْہُ أَعْظَمَ مَا تَکُونُ وَأَسْمَنَ تَطَؤُہُ بِأَظْلاَفِہَا وَتَنْطَحُہُ بِقُرُونِہَا حَتَّی یُقْضَی بَیْنَ النَّاسِ ثُمَّ یَعُودُ أُولاَہَا عَلَی أُخْرَاہَا ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ فَسَمَّی الْوَاجِبَ فِی الْمَاشِیَۃِ زَکَاۃً۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۶۰۔ مسلم ۹۹۰]
(١٣١٢٤) ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ پھر اس حدیث کو ذکر کیا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ جو آدمی فوت ہوگیا اور اس نے بکریاں چھوڑیں یا اونٹ چھوڑے یا گائیں چھوڑیں جن کی اس نے زکوۃ ادا نہیں کی تھی تو وہ اس آدمی کے پاس موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اپنے کھروں کے ساتھ اس آدمی کو روندیں گے اور اپنے سینگوں کے ساتھ اس کو ماریں گے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا، پھر ان (جانوروں) کا پہلا (جانور) آخری پر دوبارہ لوٹے گا (یعنی جب آخری جانور گزر جائے گا) تو پہلا پھر آجائے گا۔