(۱۳۱۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الأَسَدَابَاذِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : بِشْرُ بْنُ مُوسَی الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ یَزِیدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمَ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ زِیَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُحَدِّثُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَبَایَعْتُہُ عَلَی الإِسْلاَمِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ ثُمَّ أَتَاہُ آخَرُ فَقَالَ : أَعْطِنِی مِنَ الصَّدَقَۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ یَرْضَ فِیہَا بِحُکْمِ نَبِیٍّ وَلاَ غَیْرِہِ فِی الصَّدَقَاتِ حَتَّی حَکَمَ ہُوَ فِیہَا فَجَزَّأَہَا ثَمَانِیَۃَ أَجْزَائٍ فَإِنْ کُنْتَ مِنْ تِلْکَ الأَجْزَائِ أَعْطَیتُکَ أَوْ أَعْطَیْنَاکَ حَقَّکَ ۔ [ضعیف]
(١٣١٢٦) زیاد بن حارث صدائی جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ میں نے اسلام قبول کرنے کے لیے سبقت کی۔ حدیث کو آگے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دوسرا آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بھی صدقہ دیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے صدقات کے معاملے میں اپنے نبی یا کسی کے فیصلے کو پسند نہیں کیا، یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے آٹھ افراد (حصوں) میں طے کردیا۔ اگر تو ان میں سے ہوا تو میں تجھے دے دوں گا یا یہ کہا کہ ہم تجھے تیرا حق دے دیں گے۔