(۱۳۱۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بُعِثَ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَلَمَّا رَجَعَ قَالُوا لَہُ : أَیْنَ الْمَالُ؟ قَالَ : وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتُمُونِی أَخْذَنَاہَا مِنْ حَیْثُ کُنَّا نَأْخُذُہَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَوَضَعْنَاہَا حَیْثُ کُنَّا نَضَعُہَا۔ [ضعیف]
(١٣١٣٨) عطاء بن ابو میمونہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین کو صدقہ کے لیے بھیجا گیا۔ جب وہ لوٹے تو لوگوں نے کہا کہ مال کہاں ہے ؟ تو انھوں نے کہا کہ مال کے لیے تم نے مجھے بھیجا تھا ؟ وہ تو ہم نے ان سے لیا جن سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں لیتے تھے اور ان کو دے دیا جن کو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں دیتے تھے۔