(۱۳۱۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : أَتَیْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِی فَجَعَلَ یَفْرِضُ رِجَالاً مِنْ طَیِّئٍ فِی أَلْفَیْنِ وَیُعْرِضُ عَنِّی فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَتَعْرِفُنِی قَالَ فَضَحِکَ حَتَّی اسْتَلْقَی لِقَفَاہُ قَالَ : نَعَمْ وَاللَّہِ إِنِّی لأَعْرِفُکَ قَدْ آمَنْتَ إِذْ کَفَرُوا وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا وَوَفَیْتَ إِذْ غَدَرُوا وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَۃٍ بَیَّضَتْ وَجْہَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَوَجْہَ أَصْحَابِہِ صَدَقَۃُ طَیِّئٍ جِئْتَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ أَخَذَ یَعْتَذِرُ قَالَ : إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِہِمُ الْفَاقَۃُ وَہُمْ فَاقَۃُ عَشَائِرِہِمْ لِمَا یَنُوبُہُمْ مِنَ الْحُقُوقِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِیثِ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ آجد ۱/ ۴۵۔ رقم الحدیث ۳۱۶]
(١٣١٤٣) سیدنا عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر (رض) کے پاس آیا اور وہ میرے قوم کے لوگوں میں موجود تھے کہ انھوں نے (قبیلہ) طے کے دو ہزار آدمیوں کی ذمہ داری لگائی اور مجھ سے اعراض کیا تو میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ مجھے جانتے ہیں، عدی کہتے ہیں کہ وہ مسکرا دیے اور بات سمجھ گئے، انھوں نے کہا : جی ہاں۔ اللہ کی قسم ! میں تجھے جانتا ہوں، جب کفار نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کیا تو ایمان لایا، جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے ، تو نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا، جب انھوں نے غداری کی تو نے وفا کی، سب سے پہلا صدقہ (جس کی وجہ سے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کا چہرہ چمک اٹھا تھا وہ (قبیلہ) طے کا صدقہ تھا جسے تو لے کر آیا تھا، پھر انھوں نے مجھ سے معذرت کی اور کہا : میں نے (ایسی) قوم کے لیے فرض قرار دیا ہے جنہیں فاقہ نے کمزور کردیا ہے۔ وہ پورا قبیلہ فاقہ کا شکار ہے تاکہ انھیں ان کے حقوق مل جائیں۔