(۱۳۱۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ہُوَ ابْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ فَذَکَرَہُ وَقَالَ : وَلاَ لِذِی مِرَّۃٍ سَوِیٍّ ۔ وَرَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِیہِ وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ أَیْضًا فِی رَفْعِہِ وَلَفْظِہِ وَفِی رِوَایَۃِ مَنْ رَفَعَہُ کِفَایَۃٌ۔ وَمَعْنَی الْمِرَّۃِ الْقُوَّۃُ وَأَصْلُہَا مِنْ شِدَّۃِ فَتْلِ الْحَبْلِ۔ [صحیح لغیرہ]
(١٣١٥٨) سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہ کسی طاقت ور تندرست کے لیے جائز ہے کہ وہ صدقہ مانگے۔ ایک مرفوع روایت میں یہ الفاظ ہیں : کفایۃ ، یعنی جس کے پاس کفایت کے لیے مال ہو۔
المرۃ کا معنی قوت ہے اور اس کی بنیاد رسی کو مضبوطی کے ساتھ بٹنے سے ہے۔