(۱۳۱۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ ثُمَّ السَّاعِدِیِّ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتَعْمَلَ عَامِلاً عَلَی الصَّدَقَۃِ فَجَائَ الْعَامِلُ حِینَ قَدِمَ مِنْ عَمَلِہِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا الَّذِی لَکُمْ وَہَذَا الَّذِی أُہْدِیَ لِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : فَہَلاَّ قَعَدْتَ فِی بَیْتِ أَبِیکَ وَأُمِّکَ فَنَظَرْتَ إِنْ یُہْدَی لَکَ أَمْ لاَ ۔ ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَشِیَّۃً عَلَی الْمِنْبَرِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَتَشَہَّدَ وَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُہُ فَیَأْتِینَا فَیَقُولُ ہَذَا مِنْ عَمَلِکُمْ وَہَذَا الَّذِی أُہْدِیَ لِی فَہَلاَّ قَعَدَ فِی بَیْتِ أَبِیہِ وَأُمَّہِ فَنَظَرَ ہَلْ یُہْدَی لَہُ أَمْ لاَ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لاَ یَقْبَلُ أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْہَا شَیْئًا إِلاَّ جَائَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَحْمِلُہُ عَلَی عُنُقِہِ إِنْ کَانَ بَعِیرًا جَائَ بِہِ لَہُ رُغَاء ٌ وَإِنْ کَانَتْ بَقَرَۃً جَائَ بِہَا وَلَہَا خُوَارٌ وَإِنْ کَانَتْ شَاۃً جَائَ بِہَا تَیْعَرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ ۔ قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ ثُمَّ رَفَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَدَہُ حَتَّی إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی عُفْرَۃِ إِبْطَیْہِ۔
قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَلُوہُ رَوَاہُ۔ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری، مسلم۱۸۳۲]
(١٣١٧٤) حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو صدقے پر عامل بنایا۔ جب عامل آیا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ آپ کے لیے ہے، یہ میرے لیے جو مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھا رہتا تو کیا تجھے یہ تحفے دیے جاتے یا نہ ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شام کو منبر پر کھڑے ہوئے اور نماز کے بعد اللہ کی تعریف اور ثنا کو بیان کیا جو اس کے لائق تھی، پھر آپ نے فرمایا : عاملوں (صدقے لینے والوں) کو کیا ہوگیا ہے کہ ہم ان کو صدقوں پر مقرر کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے تحفے ہیں اور یہ صدقے کا مال ہے۔ اگر وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھا رہے اور پھر دیکھے کہ کیا اس کو تحفے دیے جاتے ہیں یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کسی سے کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جائے گی مگر وہ قیامت والے دن اس کو لے کر آئے گا، اگر وہ اونٹ ہوں گے تو اس نے اپنے کندھوں پر اس کو اٹھایا ہوا ہوگا، اور اس کی بلبلانے کی آواز ہوگی اور اگر وہ گائے ہوگی تو اس کے بولنے کی آواز آرہی ہوگی اور اگر وہ بکری ہوگی تو وہ اس کو بھی لے کر آئے گا اور اس کی منمنانے کی آواز ہوگی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میں نے یہ تمام باتیں تم کو بتادیں ہیں۔
ابوحمید کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زید بن ثابت نے سنا تو تم انھیں سے پوچھو۔