(۱۳۱۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِیٍّ إِلاَّ لِخَمْسَۃٍ لِعَامِلٍ عَلَیْہَا أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاہَا بِمَالِہِ أَوْ غَارِمٍ أَوْ غَازٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ مِسْکِینٍ تُصُدِّقَ عَلَیْہِ مِنْہَا فَأَہْدَی مِنْہَا لِغَنِیٍّ۔ [منکر]
(١٣١٩٦) ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ مال دار اشخاص کے علاوہ صدقہ کسی مال دار پر جائز نہیں ہے۔ 1 صدقہ لینے والا (عامل) 2 کسی آدمی نے اپنے مال سے صدقے کی چیز کو خریدا۔ 3 کوئی چٹی شدہ آدمی 4 اللہ کے رستے میں غزوہ کرنے والا غازی۔ 5 ۔ وہ مال دار کہ کسی مسکین کو صدقہ دیا گیا تو اس نے تحفے میں کسی مال دار کو دے دیا۔