(۱۳۲۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبِ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ہَارُونَ بْنِ رِئَابٍ الأَسَدِیِّ عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ الْعَدَوِیِّ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ الْہِلاَلِیِّ قَالَ : تَحَمَّلْتُ حَمَالَۃً فَقَدِمَتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِیہَا فَقَالَ : أَقِمْ یَا قَبِیصَۃُ حَتَّی تَأْتِیَنَا الصَّدَقَۃُ فَنَأْمُرَ لَکَ بِہَا ۔ ثُمَّ قَالَ : یَا قَبِیصَۃُ إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لإِحْدَی ثَلاَثٍ : رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَۃً فَسَأَلَ فِیہَا حَتَّی یُصِیبَہَا ثُمَّ یُمْسِکُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ اجْتَاحَتْ مَالَہُ فَسَأَلَ حَتَّی یُصِیبَ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ثُمَّ یُمْسِکُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْہُ حَاجَۃٌ شَدِیدَۃٌ فَقَامَ ثَلاَثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَی مِنْ قَوْمِہِ فَقَالُوا : قَدْ أَصَابَتْ فُلاَنًا فَاقَۃٌ أَوْ حَاجَۃٌ شَدِیدَۃٌ فَسَأَلَ حَتَّی یُصِیبَ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ ثُمَّ یُمْسِکُ وَمَا سِوَاہُنَّ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ یَأْکُلُہَا صَاحِبُہَا سُحْتًا ۔ قَالَہَا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ کَمَا مَضَی۔ [صحیح]
(١٣٢٠٣) حضرت قبیصہ بن مخارق (رض) سے روایت ہے کہ میں مقروض ہوگیا، اس سلسلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قبیصہ اٹھ کھڑا ہو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آئے گا تو ہم تجھے بتلائیں گے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے قبیصہ ! مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے، وہ آدمی جس کو چٹی پڑگئی تو اس نے سوال کیا، یہاں تک کہ وہ قرض ادا ہوگیا، پھر وہ رک جائے، وہ آدمی جسے اچانک آفت پہنچی اور اس کا مال برباد ہوگیا اس نے مانگا، یہاں تک کہ اس کا معاملہ سیدھا ہوگیا، پھر وہ رک گیا، تیسرا سخت ضرورت مند آدمی جس کے متعلق اس کی قوم کے تین آدمی گواہی دیں تو اس نے سوال کیا، یہاں تک کہ گزر بسر آسان ہوگئی، پھر وہ رک گیا، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، (جو ایسا کرتا ہے) وہ حرام کھاتا ہے۔