(۱۳۲۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی قِرَائَ ۃً قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْقُشَیْرِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُؤْتَی بِالتَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّاسِ الصَّدَقَۃَ فَیَجِیئُ ہَذَا مِنْ تَمْرِہِ وَہَذَا مِنْ تَمْرِہِ حَتَّی یَصِیرَ عِنْدَہُ کَوْمٌ مِنْ تَمْرٍ قَالَ فَجَعَلَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَلْعَبُ بِذَلِکَ التَّمْرِ فَأَخَذَ تَمْرَۃً فَجَعَلَہَا فِی فِیہِ فَنَظَرَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْرَجَہَا مِنْ فِیہِ وَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ لاَ یَأْکُلُونَ الصَّدَقَۃَ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ طَہْمَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۶۶۔ مسلم ۱۰۶۹]
(١٣١٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لوگوں کے ڈھیروں سے صدقہ کی کھجوریں لائی گئیں، لوگ اپنی اپنی کھجوریں پیش کرنے لگے حتیٰ کہ آپ کے پاس کھجوروں کا ڈھیر لگ گیا۔ حسن بن علی (رض) ان کھجوروں سے کھیل رہے تھے انھوں نے ایک کھجور پکڑی اور کھالی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ان کے منہ سے نکل کر پھینک دیا پھر فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آلِ محمد صدقہ نہیں کھاتے۔