(۱۳۲۵۴) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِیمٍ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَۃَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ السُّکَّرِیُّ عَنْ أَبِی الْجُوَیْرِیَۃِ الْجَرْمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ مَعْنَ بْنَ یَزِیدَ یَقُولُ : خَاصَمْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَفْلَجَنِی وَخَطَبَ عَلَیَّ فَأَنْکَحَنِی وَبَایَعْتُہُ أَنَا وَجَدِّی قَالَ قُلْتُ لَہُ : وَمَا کَانَتْ خُصُومَتُکَ؟ قَالَ : کَانَ رَجُلٌ یَغْشَی الْمَسْجِدَ فَیَتَصَدَّقُ عَلَی رِجَالٍ یَعْرِفُہُمْ فَجَائَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَمَعَہُ صُرَّۃٌ فَظَنَّ أَنِّی بَعْضُ مَنْ یُعْرَفُ فَلَمَّا أَصْبَحَ تَبَیَّنَ لَہُ فَأَتَانِی فَقَالَ : رُدَّہَا فَأَبَیْتُ فَاخْتَصَمْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَجَازَ لِی الصَّدَقَۃَ وَقَالَ : لَکَ أَجْرُ مَا نَوَیْتَ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَظَاہِرُ ہَذَا أَنَّ الْمُتَصَدِّقَ کَانَ رَجُلاً أَجْنَبِیًّا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٣٢٥٤) ابو جویریہ جرمی فرماتے ہیں : میں نے معن بن یزید سے سنا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جھگڑا لے کر گیا، آپ نے میری منگنی کی اور میرا نکاح کردیا، میں نے اور میرے دادا نے آپ سے بیعت کی۔ راوی فرماتے ہیں : میں نے انھیں کہا : آپ کا جھگڑا کیا تھا ؟ فرمایا : ایک شخص مسجد میں رہتا تھا اور اپنے جاننے والے لوگوں پر صدقہ کرتا تھا، ایک رات وہ آیا اور اس کے پاس تھیلی تھی۔ اس نے گمان کیا کہ میں بھی اس کی جان پہچان والا ہوں، جب صبح ہوئی تو اسے پتہ چلا، وہ میرے پاس آیا اور کہا : وہ مجھے واپس کر۔ میں نے انکار کیا پھر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جھگڑا لے کر آئے تو آپ نے میرے لیے صدقہ جائز قرار دیا اور فرمایا : تیرے لیے وہ ہے جو تو نے نیت کی۔
شیخ فرماتے ہیں : اس سے ظاہر ہے کہ صدقہ کرنے والا اجنبی شخص تھا۔