(۱۳۲۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ الْحَکَمِ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ قُرَیْعٍ أَخْبَرَنِی غَیْلاَنُ بْنُ جُنَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ جُنَادَۃَ بْنِ جَرَادٍ أَحَدِ بَنِی غَیْلاَنَ بْنِ جَاوَۃَ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- بِإِبِلٍ قَدْ وَسَمْتُہَا فِی أُنُفِہَا فَقَالَ : یَا جُنَادَۃُ أَمَا وَجَدْتَ عُضْوًا تَسِمُہَا فِیہِ إِلاَّ الْوَجْہَ أَمَا إِنَّ أَمَامَکَ الْقِصَاصَ ۔ قَالَ : أَمْرُہَا إِلَیْکَ قَالَ : ائْتِنِی بِشَیْئٍ لَیْسَ عَلَیْہِ وَسْمٌ ۔ فَأَتَیْتُہُ بِابْنِ لَبُونٍ وَابْنَۃِ لَبُونٍ وَحِقَّۃٍ فَقَالَ : أَتَبِیعُنِی نَارَہَا أَشْتَرِی نَارَہَا بِصَدَقَتِہَا ۔ قَالَ : أَمْرُہَا إِلَیْکَ فَوَضَعْتُ الْمِیْسَمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَخِّرْ۔ فَلَمْ یَزَلْ یَقُولُ: أْخِّرْ أْخِّرْ۔ حَتَّی بَلَغْتُ الْفَخِذَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : سِمْ عَلَی بَرَکَۃٍ ۔ قَالَ فَوَسَمْتُہَا فِی أَفْخَاذِہَا وَکَانَتْ صَدَقَتُہَا حِقَّتَانِ فَکَانَتْ تِسْعُونَ۔ [ضعیف]
(١٣٢٦٣) حضرت جنادہ بن جراد سے روایت ہے کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اونٹ لے کر آیا اور میں نے اس کے ناک پر داغا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جنادہ ! تجھے چہرے کے علاوہ کوئی اور عضو نہیں ملا، جس کو تو داغتا، تیرے آگے حساب کتاب ہے، اس نے کہا : معاملہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اور کوئی لے کر آ جس پر کوئی نشان نہ ہو، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ابن لبون، بنت لبون اور حقہ لے کر آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو مجھے یہ خوش رنگ اونٹنی بیچے گا، میں اس کے صدقے کے مال سے خرید لوں گا، اس نے کہا : معاملہ آپ کے سپرد ہے، میں نے داغنے کا آلہ پکڑا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پیچھے کر اور آپ کہتے رہے اور پیچھے اور پیچھے، یہاں تک میں ران پر پہنچا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : برکت والی جگہ پر داغ، تو میں نے اس کی رانوں پر داغا، اس کا صدقہ ٢ حقے تھے اور وہ ٩٠ تھے۔