hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1327

.

سنن البيهقي

1327
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الأَحْمَسِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ الرَّبِیعِ حَدَّثَنِی أَبُو عُبَیْدٍ: الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَّمٍ مَوْلَی خُزَاعَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَزِینٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ أُبَیِّ بْنِ عِمَارَۃَ - کَذَا قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ بِالْکَسْرِ - قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَیْتِ عِمَارَۃَ الْقِبْلَتَیْنِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ: یَوْمًا؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ: وَیَوْمَیْنِ؟ قَالَ : ((وَیَوْمَیْنِ))۔ قَالَ: وَثَلاَثًا یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ حَتَّی عَدَّ سَبْعًا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((نَعَمْ مَا بَدَا لَکَ))۔ ہَکَذَا فِی رِوَایَتِنَا۔ وَقِیلَ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ فِی ہَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ وَقَدِ قِیلَ فِی ہَذَا الإِسْنَادِ غَیْرُ ہَذَا۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ قَدِ اخْتُلِفَ فِی إِسْنَادِہِ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ ہَذَا إِسْنَادٌ لاَ یَثْبُتُ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِیہِ عَلَی یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ اخْتِلاَفًا کَثِیرًا۔ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ وَأَیُّوبُ بْنُ قَطَنٍ مَجْہُولُونَ کُلُّہُمْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٣٢٨) (الف) سیدنا ابو بن عمارہ سے روایت ہے۔ ابو عبید نے کسرہ کے ساتھ نقل کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلتین کی عمارت والے گھر میں نماز پڑھی، انھوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! میں موزوں پر مسح کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں “ انھوں نے پوچھا ایک دن ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں “ انھوں نی پھر پوچھا : دو دن ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دو دن۔ “ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! تین دن ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں “ یہاں تک کہ سات شمار کیے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں جو تیرے لیے ظاہر ہو۔
(ب) امام ابوداؤد (رح) کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور یہ حدیث قوی نہیں۔ (ج) علی بن عمر کہتے ہیں کہ یہ سند ثابت نہیں، اس میں راوی یحییٰ بن ایوب پر شدید اختلاف ہے۔ (د) عبدالرحمن، محمد بن یزید اور ایوب بن قطن یہ سارے راوی مجہول ہیں۔