(۱۳۳۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَیْتُ قَدَحًا أُتِیتُ بِہِ فِیہِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ مِنْہُ حَتَّی إِنِّی لأَرَی الرِّیَّ یَجْرِی فِی أَظْفَارِی ثُمَّ أَعْطَیْتُ فَضْلِی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔ قَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : الْعِلْمَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۲۔ مسلم ۲۳۹۱]
(١٣٣٢٤) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا، میں نے ایک پیالہ دیکھا جس میں مجھے دودھ دیا گیا۔ میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے ایسے محسوس ہوا کہ میرے ناخنوں میں سے دودھ نکل رہا ہے۔ پھر میرا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دیا گیا۔ صحابہ کرام (رض) نے فرمایا کہ تاویل کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علم۔