(۱۳۳۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنِ الزُّبَیْدِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُحَدِّثُ أَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَ إِلَی نَبِیِّہِ -ﷺ- مَلَکًا مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ مَعَہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ الْمَلَکُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ یُخَیِّرُکَ بَیْنَ أَنْ تَکُونَ عَبْدًا نَبِیًّا وَبَیْنَ أَنْ تَکُونَ مَلِکًا نَبِیًّا فَالْتَفَتَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ کَالْمُسْتَشِیرِ لَہُ فَأَشَارَ جِبْرِیلُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تَوَاضَعْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بَلْ أَکُونُ عَبْدًا نَبِیًّا ۔ قَالَ فَمَا أَکَلَ بَعْدَ تِلْکَ الْکَلِمَۃِ طَعَامًا مُتَّکِئًا حَتَّی لَقِیَ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ [ضعیف]
(١٣٣٢٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے نبی کی طرف ایک فرشتہ بھیجا اور جبرائیل (علیہ السلام) بھی ساتھ تھے۔ فرشتے نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دیا ہے کہ آپ رسول نبی بننا چاہتے ہیں کہ بندہ نبی بننا چاہتے ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف دیکھا، گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے مشورہ کر رہے تھے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بندہ نبی بننا چاہتا ہوں۔
راوی کا بیان ہے کہ ان کلمات کے بعد آپ نے کبھی بھی ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔