(۱۳۳۳۵) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ أَخْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْیُ عَنِّی فَبَیْنَمَا أَنَا أَمْشِی سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَائِ فَرَفَعْتُ بَصَرِی قِبَلَ السَّمَائِ فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِی کَانَ یَجِیئُنِی قَاعِدٌ عَلَی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْہُ فَرَقًا حَتَّی ہَوَیْتُ إِلَی الأَرْضِ فَجِئْتُ إِلَی أَہْلِی فَقُلْتُ لَہُمْ : زَمِّلُونِی ۔ فَزَمَّلُونِی فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی (یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ) قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ الرُّجْزُ : الأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ جَائَ الْوَحْیُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ بِالإِسْنَادَیْنِ جَمِیعًا دُونَ کَلاَمِ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ۔
(١٣٣٣٥) عبداللہ انصاری نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا : پھر وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی۔ ایک دفعہ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو ایک فرشتہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور آسمان اور زمین کے درمیان تھا۔ میں نے اس سے خوف محسوس کیا اور نیچے زمین کی طرف اترنا شروع کردیا اور میں اپنے گھر والوں کی طرف آیا، میں نے ان کو کہا : مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھا دو تو اللہ پاک نے یہ آیت نازل کیں، { یاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ } { قُمْ فَاَنذِرْ }