(۱۳۳۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاَنِ فَأَغْلَظَ لَہُمَا فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَمَنْ أَصَابَ مِنْکَ خَیْرًا مَا أَصَابَ مِنْکَ ہَذَانِ خَیْرًا فَقَالَ : أَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَاہَدْتُ عَلَیْہِ رَبِّی؟ ۔ قُلْتُ : وَمَا عَاہَدْتَ عَلَیْہِ رَبَّکَ؟ قَالَ : قُلْتُ اللَّہُمَّ أَیُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُہُ أَوْ لَعَنْتُہُ فَاجْعَلْہَا لَہُ مَغْفِرَۃً وَعَافِیَۃً وَکَذَا وَکَذَا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۶۰۰]
(١٣٣٨٣) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دو بندے داخل ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر ناراض ہوئے تو سب نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہر شخص کو آپ سے خیر ملتی ہے اور ان دونوں کو آپ کی جانب سے بھلائی نہیں ملی، آپ نے فرمایا : کیا تو نہیں جانتی کہ میں نے اپنے رب سے کیا وعدہ کیا ہے ؟ تو میں نے کہا : کیا وعدہ کیا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے کہا : اے اللہ جو بھی مومن ہو اور میں اس کو گالی دوں یا لعنت کروں تو اس کے عوض اس کو معاف کردینا اور اس کو عافیت دینا اور ایسے ایسے دینا۔