(۱۳۳۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ وَکِیعِ بْنِ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ أَخْبَرَنِی حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطَبَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُمَّ کُلْثُومٍ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّہَا تَصْغُرُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : کُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ سَبَبِی وَنَسَبِی فَأَحْبَبْتُ أَنْ یَکُونَ لِی مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَبَبٌ وَنَسَبٌ ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَحَسَنٍ وَحُسَیْنٍ: زَوِّجَا عَمَّکُمَا فَقَالاَ : ہِیَ امْرَأَۃٌ مِنَ النِّسَائِ تَخْتَارُ لِنَفْسِہَا فَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُغْضَبًا فَأَمْسَکَ الْحَسَنُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِثَوْبِہِ وَقَالَ: لاَ صَبَرَ عَلَی ہِجْرَانِکَ یَا أَبَتَاہُ قَالَ فَزَوَّجَاہُ۔[ضعیف]
(١٣٣٩٤) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتے ہوئے سنا کہ ہر سبب اور نسب قیامت والے دن ختم کردیا جائے گا علاوہ میرے سبب اور نسب کے تو میں نے پسند کیا کہ میرے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب بھی ہو اور سبب بھی ہو تو علی (رض) نے حضرت حسن اور حسین (رض) سے فرمایا : اپنے چچا کی شادی کر دو ۔ وہ کہنے لگے : وہ ایک خود مختار عورت ہے حضرت علی (رض) غصے میں کھڑے ہوئے تو حضرت حسن (رض) نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا “ اور عرض کیا : اے ابا جان آپ کی جدائیگی پر صبر و تحمل نہیں ہے۔ پھر انھوں نے آپ (رض) کا نکاح کردیا۔