(۱۳۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیُّ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْحَکَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ ہَانِئٍ قَالَ: أَتَیْتُ عَائِشَۃَ أَسْأَلُہَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِیًّا ، فَإِنَّہُ قَدْ کَانَ یُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ: إِنَّا نَکُونُ فِی أَرْضٍ بَارِدَۃٍ وَثُلُوجٍ کَثِیرَۃٍ فَمَا تَرَی فِی الْخُفَّیْنِ؟ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((لِلْمُسَافِرِ ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ وَلَیَالِیہِنَّ ، وَلِلْمُقِیمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ ، یَمْسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ إِذَا أَدْخَلَہُمَا وَقَدْمَاہُ طَاہِرَتَانِ))۔
تَفَرَّدَ بِہَذِہِ الزِّیَادَۃِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی۔ [صحیح]
(١٣٤٣) شریع بن ہانی سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ (رض) کے پاس موزوں پر مسح سے متعلق سوال کرنے آیاتوانھوں نے کہ فرمایا : تو علی (رض) کے پاس جا، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر کرتے رہتے تھے۔ میں ان کے پاس آیا کہا : ہم ٹھنڈی اور بہت زیادہ اولوں والی زمین میں ہوتے ہیں، آپ کا موزوں پر مسح کے متعلق کیا خیال ہے ؟ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے یہ اس وقت موزوں پر مسح کریں گے جب انھیں باوضو پہنا ہو۔