(۱۳۵۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { لِیَسْتَأْذِنْکُمُ الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَحِینَ تَضَعُونَ ثِیَابَکُمْ مِنَ الظَّہِیرَۃِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ } قَالَ : إِذَا خَلاَ الرَّجُلُ بِأَہْلِہِ بَعْدَ صَلاَۃِ الْعِشَائِ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْہِ خَادِمٌ وَلاَ صَبِیٌّ إِلاَّ بِإِذْنٍ حَتَّی یُصَلِّیَ الْغَدَاۃَ وَإِذَا خَلاَ بِأَہْلِہِ عِنْدَ الظُّہْرِ فَمِثْلُ ذَلِکَ ثُمَّ رُخِّصَ لَہُمْ فِیمَا بَیْنَ ذَلِکَ بِغَیْرِ إِذْنٍ وَہُوَ قَوْلُہُ تَعَالَی { لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلاَ عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ بَعْدَہُنَّ } فَأَمَّا مَنْ بَلَغَ الْحُلُمَ فَإِنَّہُ لاَ یَدْخُلُ عَلَی الرَّجُلِ وَأَہْلِہِ إِلاَّ بِإِذْنٍ عَلَی حَالٍ وَہُوَ قَوْلُہُ { وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَأْذِنُوا کَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ }۔ [ضعیف]
(١٣٥٥٣) ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے ارشاد : { لِیَسْتَاْذِنْکُمْ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔۔۔} [النور ] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ساتھ علیحدگی اختیار کرے، عشاء کی نماز کے بعد تو کوئی خادم کوئی بچہ بغیر اجازت کے داخل نہ ہو، یہاں تک کہ صبح کی نماز ہوجائے اور جب وہ علیحدہ ہو اپنی بیوی کے ساتھ ظہر کے وقت تو پھر بھی ایسے ہی ہے، پھر رخصت دے دی گئی اس کے درمیانی وقت میں بغیر اجازت کے اللہ کے اس فرمان کے تحت : { لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلاَ عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ بَعْدَہُنَّ } [النور ] جو بالغ ہے وہ آدمی اور اس کی بیوی پر ان اوقات میں داخل نہ ہو بغیر اجازت کے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے : { وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا } [النور ]