(۱۳۵۹۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِسُؤَالِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْئٍ فَخُذُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْئٍ فَانْتَہُوا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ۔
(ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الأَمْرُ فِی مَعْنَی النَّہْیِ فَیَکُونَانِ لاَزِمَیْنِ إِلاَّ بِدَلاَلَۃِ أَنَّہُمَا غَیْرُ لاَزِمَیْنِ وَیَکُونُ قَوْلُہُ -ﷺ- : فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ۔ أَنْ یَقُولَ عَلَیْہِمْ إِتْیَانُ الأَمْرِ فِیمَا اسْتَطَاعُوا لأَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا کُلِّفُوا مَا اسْتَطَاعُوا وَعَلَی أَہْلِ الْعِلْمِ طَلَبُ الدَّلاَئِلِ لِیُفَرِّقُوا بَیْنَ الْحَتْمِ وَالْمُبَاحِ وَالإِرْشَادِ الَّذِی لَیْسَ بِحَتْمٍ فِی الأَمْرِ وَالنَّہْیِ مَعًا۔ [صحیح تقدم]
(١٣٥٩٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک میں تم سے یکسو رہوں تم بھی مجھے چھوڑ دو (اور سوالات وغیرہ نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے (غیر ضروری) سوالات اور انبیاء کے سامنے اختلاف کی وجہ سے تباہ ہوگئیں، جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤ، جس حد تک تم میں طاقت ہو اور جب تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے بچو۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ امر نہی کے معنی میں ہو تو دونوں لازم ہوجائے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول سے وہ دونوں غیر لازم ہیں : (فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) تو امر کا حکم استطاعت کے مطابق ہے؛ چونکہ لوگ استطاعت کے مطابق مکلف ٹھہراتے ہیں۔