(۱۳۶۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ شَیْبَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : جَمَعَتِ الطَّرِیقُ رَکْبًا فَجَعَلَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُمْ ثَیِّبٌ أَمَرَہَا بَیَدِ رَجُلٍ غَیْرِ وَلِیٍّ فَأَنْکَحَہَا فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَلَدَ النَّاکِحَ وَالْمُنْکِحَ وَرَدَّ نِکَاحَہُمَا۔ [صحیح]
(١٣٦٣٩) عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ راستے میں کچھ سوار جمع ہوئے تو ان میں سے ایک بیوہ عورت نے اپنا ہاتھ ولی کے علاوہ دوسرے کو دیا کہ وہ اس کا نکاح کر دے تو اس نے اس کا نکاح کردیا۔ سیدنا عمر (رض) کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے دونوں کو کوڑے لگائے اور دونوں کا نکاح مردود قرار دے دیا۔