(۱۳۶۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ کَانَا یُنْکِحَانِ بَنَاتِہِمَا الأَبْکَارَ وَلاَ یَسْتَأْمَرَانِہِنَّ وَأَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ کَانُوا یَقُولُونَ فِی الْبِکْرِ یُزَوِّجُہَا أَبُوہَا بِغَیْرِ إِذْنِہَا : إِنَّ ذَلِکَ لاَزِمٌ لَہَا۔ [ضعیف]
(١٣٦٦٦) قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کرتے تھے اور ان سے مشورہ بھی نہیں کرتے تھے اور یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ کنواری لڑکی کی شادی اس کا باپ بغیر اجازت سے کرے گا اور یہ لڑکی کے لیے لازم ہے۔