(۱۳۶۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ رَحِمَہُ اللَّہُ بَعْضُہُمْ یَقُولُ : الْحِقَاقِ وَہُوَ مِنَ الْمُحَاقَّۃِ یَعْنِی الْمُخَاصَمَۃَ أَنْ تُحَاقَّ الأُمُّ الْعُصْبَۃَ فِیہِنَّ فَنَصُّ الْحِقَاقِ إِنَّمَا ہُوَ الإِدْرَاکُ لأَنَّہُ مُنْتَہَی الصِّغَرِ فَإِذَا بَلَغَ النِّسَائُ ذَلِکَ فَالْعَصَبَۃُ أَوْلَی بِالْمَرْأَۃِ مِنْ أُمِّہَا إِذَا کَانُوا مُحْرِمًا وَبِتَزْوِیجِہَا أَیْضًا إِنْ أَرَادُوا۔ قَالَ : وَہَذَا یُبَیِّنُ لَکَ أَنَّ الْعَصَبَۃَ وَالأَوْلَیَائَ غَیْرَ الآبَائِ لَیْسَ لَہُمْ أَنْ یُزَوِّجُوا الْیَتِیمَۃَ حَتَّی تُدْرِکَ وَلَو کَانَ لَہُمْ ذَاکَ لَمْ یَنْتَظِرُوا بِہَا نَصَّ الْحِقَاقِ۔ قَالَ وَمَنْ رَوَاہُ نَصَّ الْحَقَائِقِ فَإِنَّہُ أَرَادَ جَمْعَ حَقِیقَۃٍ۔ [ضعیف]
(١٣٦٩٦) ابوعبید (رح) فرماتے ہیں کہ بعض فقہاء کا موقف ہے کہ ماں پر عصبہ کے ساتھ ملنا فرض ہے، اسحق کی نص ہے اور وہ ان کا ادراک یعنی سمجھ دار ہونا ہے اور وہ بچپن کی انتہاء ہے۔ جب عورتیں بالغ ہوجائیں تو عورت کے عصبہ اس کی ماں سے زیادہ اولیٰ ہیں، جب وہ محرم رشتہ دار ہوں۔ اسی طرح اگر وہ چاہیں تو اس کی شادی کردیں اور کہا کہ یہ تیرے لیے کھلا اور واضح بیان ہے کہ عصبہ رشتہ دار اولیاء جو باپوں کے علاوہ ہیں وہ یتیم بچی کی شادی ادراک (یعنی سمجھ دار) ہونے سے پہلے نہ کریں۔ اگرچہ ان کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اس کے ساتھ نص حقائق کا انتظار نہ کریں اور جس نے نص حقائق کو بیان کیا ہے تو اس کی مراد جمع حقیقت ہے۔