(۱۳۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَۃَ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا حُصَیْنٌ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِامْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدًا لَہَا فَقَالَتِ الْمَرْأَۃُ : أَلَیْسَ اللَّہُ تَعَالَی یَقُولُ فِی کِتَابِہِ { أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } فَضَرَبَہُمَا وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَکَتَبَ إِلَی أَہْلِ الأَمْصَارِ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدًا لَہَا أَوْ تَزَوَّجَتْ بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ أَوْ وَلِیٍّ فَاضْرِبُوہُمَا الْحَدَّ۔ [حسن لغیرہ]
(١٣٧٣٥) حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے اپنے غلام سے شادی کرلی تھی۔ عورت نے کہا : کیا اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد نہیں فرمایا : { أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } جو مالک ہوئے تمہارے دائیں ہاتھ کے۔ حضرت عمر (رض) نے ان دونوں پر حد لگائی اور ان کے درمیان تفریق ڈال دی اور گورنروں کی طرف یہ خط لکھا کہ جو عورت بھی اپنے غلام سے شادی کرے یا بغیر دلیل کے شادی کرے یا ولی کے بغیر تو ان دونوں پر حد نافذ کرو۔