hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13797

.

سنن البيهقي

13797
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۷۹۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ السِّمَّرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ : الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ بْنَ مُوسَی یَقُولُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ بِغَیْرٍ إِذْنِ مَوَالِیہَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَہَا فَلَہَا مَہْرُہَا بِمَا أَصَابَہَا وَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہُ ۔ وَرُوِّینَا عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ وَشُرَیْحٍ قَالُوا : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ إِلاَّ امْرَأَۃً یَعْضُلُہَا الْوَلِیُّ فَتَأْتِی السُّلْطَانَ أَوِ الْقَاضِیَ وَعَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ قَالَ : کَتَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنْ کَانَ کُفْؤًا فَقُولُوا لأَبِیہَا یُزَوِّجُہَا فَإِنْ أَبَی فَزَوِّجُوہَا۔ [صحیح۔ انظر الارواء ۱۳۴۰]
(١٣٧٩١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : جس عورت نے اپنے والیوں کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر خاوند نے ہمبستری کرلی تو عورت کے لیے حق مہر ہے اگر ولی آپس میں جھگڑا کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔
(ب) مجاہد شعبی سے اور وہ حضرت علی، عبداللہ اور شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ نکاح ولی کے بغیر جائز نہیں مگر وہ عورت جس کو اس کا ولی روکے تو وہ بادشاہ یا قاضی کے پاس آجائے۔
(ج) زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے لکھا : اگر کفو موجود ہو تو عورت کے باپ سے کہو کہ ان کی شادی کردیں، اگر وہ انکار کرے تو تم اس کی شادی کر دو ۔