(۱۳۷۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ الَّذِی وَلِیَ نِکَاحَہَا ابْنُ عَمِّہَا خَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہُوَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِیہَا فَإِنَّہَا أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَالْعَاصُ ہُوَ ابْنُ أُمَیَّۃَ۔
وَقَدْ قِیلَ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہُوَ الَّذِی وَلِیَ نِکَاحَہَا۔ [ضعیف]
(١٣٧٩٨) محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ ام حبیبہ کے نکاح میں ولی ان کے چچا کے بیٹے خالد بن سعید بن العاص تھے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اس کے باپ کے چچا کے بیٹے کا بیٹا تھا؛ کیونکہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ ہیں اور العاص امیہ کے بیٹے ہیں۔
(ب) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان وہ ان کے نکاح کے ولی تھے۔