(۱۳۸۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو عَمْرٍو الْفَقِیہُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیمِ الْعَنْبَرِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَیْلٍ حَدَّثَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ یَنْظُرُونَ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ وَلاَ یُقَاعِدُونَہُ فَقَالَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- یَا نَبِیَّ اللَّہِ ثَلاَثٌ أُعْطِیتُہُنَّ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : عِنْدِی أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُہُنَّ أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ أُزَوِّجُکَہَا قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ وَمُعَاوِیَۃُ تَجْعَلُہُ کَاتِبًا بَیْنَ یَدَیْکَ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : وَتُؤَمِّرُنِی حَتَّی أُقَاتِلَ الْکُفَّارَ کَمَا کُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِینَ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ أَبُو زُمَیْلٍ وَلَوْلاَ أَنَّہُ طَلَبَ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا أَعْطَاہُ ذَلِکَ لأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَسْأَلُ شَیْئًا إِلاَّ قَالَ : نَعَمْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِیمِ وَأَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ۔
فَہَذَا أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ فِیہِ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ وَتَرَکَہُ الْبُخَارِیُّ وَکَانَ لاَ یَحْتَجُّ فِی کِتَابِہِ الصَّحِیحِ بِعِکْرَمَۃِ بْنِ عَمَّارٍ وَقَالَ : لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ کِتَابٌ فَاضْطَرَبَ حَدِیثُہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا الْحَدِیثُ فِی قِصَّۃِ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ أَجْمَعَ أَہْلُ الْمَغَازِی عَلَی خِلاَفِہِ فَإِنَّہُمْ لَمْ یَخْتَلِفُوا فِی أَنَّ تَزْوِیجَ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَ قَبْلَ رُجُوعِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَأَصْحَابِہِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَإِنَّمَا رَجَعُوا زَمَنَ خَیْبَرَ فَتَزَویجُ أُمِّ حَبِیبَۃَ کَانَ قَبْلَہُ وَإِسْلاَمُ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ کَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ بَعْدَ نِکَاحِہَا بِسَنَتَیْنِ أَوْ ثَلاَثٍ فَکَیْفَ یَصِحُّ أَنْ یَکُونَ تَزْوِیجُہَا بِمَسْأَلَتِہِ وَإِنْ کَانَتْ مَسْأَلَتُہُ الأُولَی إِیَّاہُ وَقَعَتْ فِی بَعْضِ خَرَجَاتِہِ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَہُوَ کَافِرٌ حِینَ سَمِعَ نَعْیَ زَوْجِ أُمِّ حَبِیبَۃَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَالْمَسْأَلَۃُ الثَّانِیَۃُ وَالثَّالِثَۃُ وَقَعَتَا بَعْدَ إِسْلاَمِہِ لاَ یُحْتَمَلُ إِنْ کَانَ الْحَدِیثُ مَحْفُوظًا إِلاَّ ذَلِکَ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [منکر۔ مسلم ۲۵۰۱]
(١٣٨٠٠) ابو زمیل حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ مسلمان ابو سفیان کی طرف توجہ بھی نہ کرتے اور ان کے ساتھ بیٹھتے بھی نہ تھے۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے ان کو تین چیزیں دی ہیں : 1 میرے پاس عرب کی حسین و جمیل بیٹی تھی جس کی میں نے آپ سے شادی کردی۔ 2 اور معاویہ کو آپ نے کاتب وحی کرلیا جو میرا بیٹا ہے۔ (٣) آپ نے مجھے امیر مقرر کردیا تاکہ میں کفار سے جہاد کروں جیسے مسلمانوں کے خلاف لڑا کرتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ ہاں ہی فرمایا۔ ابو زمیل کہتے ہیں : جو بھی اس نے دیا تھا واپسی کا مطالبہ نہ تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر مرتبہ نعم ہی کہا۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث ام حبیبہ کے قصہ کے بارے میں ہے۔ لیکن اہل مغازی اس میں اختلاف پر متفق ہیں اور ان کا اس پر اتفاق ہے کہ ام حبیبہ کا نکاح جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کا حبشہ سے لوٹنے سے پہلے ہوا اور وہ خیبر کے زمانہ میں واپس آتے تھے اور ام حبیبہ کا نکاح اس سے پہلے ہوچکا تھا اور ابو سفیان کا اسلام قبول کرنا فتح مکہ کے سال ہوا جو نکاح کے دو یا تین سال بعد ہے تو پھر کیسے درست ہے کہ اس کا نکاح سوال کی وجہ سے ہوا۔ اگر یہ پوچھنے کی بنا پر ہے تو مدینہ کے بعض سفروں میں ممکن ہے جس وقت وہ کافر تھے۔ جب انھوں نے ام حبیبہ کے خاوند کی وفات کی خبر سنی اور باقی دو سوال یہ ان کے اسلام لانے کے بعد واقع ہوئے۔