(۱۳۸۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ خَلِیلٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ الْخَلِیلِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : تَزَوَّجَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا ابْنَۃُ سَتِّ سِنِینَ فَقَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ فَنَزَلْنَا فِی بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَوُعِکْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِی فَأَوْفَی جُمَیْمَۃً فَأَتَتْنِی أُمِّی أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّی لَفِی أُرْجُوحَۃٍ وَمَعِی صَوَاحِبَاتٌ لِی فَصَرَخَتْ بِی فَأَتَیْتُہَا وَمَا أَدْرِی مَا تُرِیدُ بِی فَأَخَذَتْ بِیَدِی حَتَّی وَقَفَتْنِی عَلَی بَابِ الدَّارِ وَإِنِّی لأَنْہَجُ حَتَّی سَکَنَ بَعْضُ نَفَسِی۔ ثُمَّ أَخَذَتْ شَیْئًا مِنْ مَائٍ فَمَسَحَتْ بِہِ وَجْہِی وَرَأْسِی ثُمَّ أَدْخَلَتْنِی الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِی بَیْتٍ فَقُلْنَ : عَلَی الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ وَعَلَی خَیْرِ طَائِرٍ فَأَسْلَمَتْنِی إِلَیْہِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِی فَلَمْ یَرُعْنِی إِلاَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ضُحًی فَأَسْلَمْنَنِی إِلَیْہِ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِینَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ أَبِی الْمَغْرَائِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٣٨٤٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے نکاح ٦ برس کی عمر میں کیا اور ہم مدینہ میں بنو حارث بن خزرج کے ہاں ٹھہرے۔ میں تھک چکی تھی، میرے بال بکھرے ہوئے تھے تو میں نے اپنے بال سنوارے، میری والدہ ام رومان آئیں اور میں اپنی سہیلوں کے ساتھ جھولے میں تھی۔ انھوں نے مجھے بلایا، میں ان کے پاس آئی، مجھے معلوم نہ تھا ان کا کیا ارادہ ہے، انھوں نے مجھے پکڑ کر گھر کی دہلیز پر کھڑا کردیا اور تھکاوٹ کی وجہ سے میرا سانس پھول رہا تھا۔ پھر انھوں نے پانی کے مانند کوئی چیز لے کر میرے سر اور چہرے پر ملی۔ پھر مجھے گھر میں داخل کردیا۔ اچانک گھر میں انصار کی عورتیں تھیں۔ انھوں نے کہا : آپ پر خیر و برکت ہو۔ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے سپرد کردیا۔ انھوں نے میری حالت کو سنوارا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے دکھائی دیے تو ان عورتوں نے مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیا، اس وقت میری عمر نو برس کی تھی۔