(۱۳۸۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَ یَقُولُ : لاَ یَطَأُ الرَّجُلُ وَلِیدَۃً إِلاَّ وَلِیدَۃً إِنْ شَائَ بَاعَہَا وَإِنْ شَائَ وَہَبَہَا وَإِنْ شَائَ صَنَعَ بِہَا مَا شَائَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : قَدْ مَنَعَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ الْعَبْدَ مِنَ التَّسَرِّی فِی الْجَدِیدِ وَعَارَضَ الأَثَرَ الأَوَّلَ بِہَذَا وَہَذَا إِنَّمَا قَالَہُ ابْنُ عُمَرَ فِی الْحُرِّ إِذَا اشْتَرَی وَلِیدَۃً بِشَرْطٍ فَاسِدٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبل الذی قبلہ]
(١٣٨٥٤) حضرت نافع عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی مرد لونڈی سے مجامعت نہ کرے، لیکن اس کو فروخت یا ہبہ کرنا چاہے یا پھر اس کے ساتھ جو بھی سلوک کرے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) کے جدید قول میں غلام کی لونڈی سے شادی کی ممانعت ہے اور پہلے اثر کو پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ ابن عمر (رض) اس آزاد شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو لونڈی فاسد شرط کے ذریعہ خریدتا ہے۔