(۱۳۸۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ قَالَ : زَوَّجَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَبْدًا لَہُ وَلِیدَۃً لَہُ فَطَلَّقَہَا فَقَالَ : ارْجِعْ فَأَبَی قَالَ فَقَالَ : ہِیَ لَکَ طَأْہَا بِمِلْکِ یَمِینِکَ۔ (ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْجَدِیدِ : وَابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ لِعَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَقَالَ لَیْسَ لَکَ طَلاَقٌ وَأَمَرَہُ أَنْ یُمْسِکَہَا فَأَبَی فَقَالَ : فَہِیَ لَکَ فَاسْتَحِلَّہَا بِمِلْکِ الْیَمِینِ یُرِیدُ لَہُ أَنَّہَا حَلاَلٌ بِالنِّکَاحِ وَلاَ طَلاَقَ لَہُ۔ [صحیح]
(١٣٨٥٦) ابو معبد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اپنے غلام کی شادی لونڈی سے کردی تو اس نے طلاق دے دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : رجوع کرو، اس نے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ تیری ملکیت ہے تو اس سے مجامعت کر، ان کی مراد یہ تھی کہ یہ نکاح کی وجہ سے حلال ہوگئی ہے اور طلاق کا اختیار نہیں۔
امام شافعی (رح) اپنے جدید قول میں فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اپنے غلام سے کہا، جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی کہ تیری طلاق نہیں، اپنی بیوی کو روکے رکھ۔ تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا مقصد یہ تھا کہ یہ تیرے لیے نکاح کی وجہ سے حلال ہے۔ اس پر طلاق نہیں ہے۔