(۱۳۸۵۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ہُوَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ : أَنَّ غُلاَمًا لاِبْنِ عَبَّاسٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَتَیْنِ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : ارْجِعْہَا فَأَبَی قَالَ ہِیَ لَکَ اسْتَحِلَّہَا بِمِلْکِ الْیَمِینِ۔ فِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ إِنَّمَا أَمَرَ بِالرِّجُوعِ إِلَیْہَا بَعْدَ تَطْلِیقَتَیْنِ وَلاَ رَجْعَۃَ لِلْعَبْدِ بَعْدَہُمَا فَکَأَنَّہُ اعْتَقَدَ أَنَّ الطَّلاَقَ لَمْ یَقَعْ حَیْثُ لَمْ یَأْذَنْ فِیہِ فَحِینَ أَبِی قَالَ ہِیَ لَکَ اسْتَحِلَّہَا بِمِلْکِ الْیَمِینِ وَمَذْہَبُ الْجَمَاعَۃِ عَلَی صِحَّۃِ طَلاَقِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : إِنَّمَا أَحَلَّ اللَّہُ التَّسَرِّیَ لِلْمَالِکِینَ وَلاَ یَکُونُ الْعَبْدُ مَالِکًا بِحَالٍ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی (ضَرَبَ اللَّہُ مِثْلاً عَبْدًا مَمْلُوکًا لاَ یَقْدِرُ عَلَی شَیْئٍ ) وَذَکَرَ مَا رُوِّینَا فِی کِتَابِ الْبُیُوعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ بَاعَ عَبْدًا لَہُ مَالٌ فَمَالُہُ لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ۔
[صحیح۔ تقدم قبل الذی قبلہ]
(١٣٨٥٨) ابو معبد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا ایک غلام تھا، اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : رجوع کرو۔ اس نے انکار کردیا تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : یہ تیری ملکیت ہونے کی وجہ سے حلال ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے)
دلالت : یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے دو طلاقوں کے بعد غلام کو رجوع کا حکم دیا لیکن اس نے انکار کردیا تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا اعتقاد تھا کہ غلام بغیر اجازت کے طلاق نہیں دے سکتا، اس لیے تو فرمایا : یہ تمہاری ملکیت ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے) حالانکہ ایک جماعت کا اتفاق ہے کہ اس کی طلاق درست ہے۔ واللہ اعلم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے مالکوں کو لونڈی سے شادی کرنا جائز رکھا ہے اور غلام فی الحال اس کا مالک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْئٍ } [النحل ٧٥] ” اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ “
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کا ہے، الایہ کہ خریدنے والا شرط لگالے۔