(۱۳۹۱۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ عَبْدِالْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللَّہُ مُبْدِیہِ} فِی شَأْنِ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَکَانَ جَائَ ہُ زَیْدٌ یَشْکُو وَہَمَّ بِطَلاَقِہَا جَائَ یَسْتَأْمِرُ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی ذَلِکَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- {أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّہَ وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللَّہُ مُبْدِیہِ} الآیَۃَ قَالَ {فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنَاکَہَا لِکَیْلاَ یَکُونَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ حَرَجٌ فِی أَزْوَاجِ أَدْعِیَائِہِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا} أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔ [صحیح]
(١٣٩١٥) سیدنا ثابت (رض) سیدنا انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی { وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ } [الاحزاب ٣٧] ” اور آپ اپنے دل میں چھپائے بیٹھے تھے اللہ اس کو ظاہر کرنے والا ہے۔ “ یہ زینب بنت جحش کے متعلق تھی کہ حضرت زید ان کی شکایت کر رہے تھے اور ان کا طلاق کا ارادہ تھا وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے مشورہ طلب کر رہے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ } [الاحزاب ٣٧]” آپ اپنی بیوی کو روکے رکھیں اور اللہ سے ڈریں اور آپ اپنے دل میں چھپا رہے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا “{ فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِھِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَطَرًا ۔ } [الاحزاب ٣٧]” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے ان سے آپ کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر کوئی حرج نہ رہے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں۔ جب وہ اپنی حاجت ان سے پوری کرلیں۔ “