(۱۳۹۱۹) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {مِنْ نِسَائِکُمُ اللاَّتِی دَخَلْتُمْ بِہِنَّ} الدُّخُولُ النِّکَاحُ یُرِیدُ بِالنِّکَاحِ الْجِمَاعَ وَقَالَ فِی الْمَسِّ وَاللَّمْسِ وَالإِفْضَائِ نَحْوَ ذَلِکَ۔ وَبَلَغَنِی عَنْ طَاوُسٍ أَنَّہُ قَالَ : الدُّخُولُ الْجِمَاعُ۔ [ضعیف]
(١٣٩١٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ کے قول : { مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ } تمہاری وہ عورتیں جن سے تم نے مجامعت کرلی ہے۔ دخول نکاح ہے اور نکاح سے مراد جماع ہے اور اس طرح مس، لمس، افضاء جماع کے معنی میں ہیں اور طاؤس کہتے ہیں کہ دخول کا معنی جماع ہے۔