(۱۳۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَی أَبِی أَیُّوبَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ: أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ ، وَکَانَ یَغْسِلُ ہُوَ قَدَمَیْہِ فَقِیلَ لَہُ فِی ذَلِکَ: کَیْفَ تَأْمُرُ بِالْمَسْحِ وَأَنْتَ تَغْسِلُ؟ فَقَالَ: بِئْسَ مَا لِی ، إِنْ کَانَ مَہْنَأَۃً لَکُمْ وَمَأْثَمَۃً عَلَیَّ ، قَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَفْعَلُہُ وَیَأْمُرُ بِہِ ، وَلَکِنِّی امْرُؤٌ حُبِّبَ إِلَیَّ الْوُضُوئُ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الزَّہْرَانِیِّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۸۵۴]q
(١٣٩٦) أبو ایوب سے منقول ہے کہ وہ موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور خودپاؤں کو دھوتے تھے، ان سے اس بارے میں پوچھا گیا : آپ مسح کا حکم دیتے ہو اور خود پاؤں دھوتے ہو ؟ انھوں نے کہا : میرے لیے برا ہے ‘ اگر تمہارے لیے مشقت ہوگی تو گناہ مجھ پر ہے، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح کرتے تھے اور اس کا حکم دیتے تھے، لیکن میں وضو کو محبوب سمجھتا ہوں۔