hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13964

.

سنن البيهقي

13964
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۹۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ} ہُنَّ ذَوَاتُ الأَزْوَاجِ۔ وَیَرْجِعُ ذَلِکَ إِلَی أَنَّ اللَّہَ حَرَّمَ الزِّنَا وَاسْتَدَلَّ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی أَنَّ ذَوَاتِ الأَزْوَاجِ مِنَ الإِمَائِ یَحْرُمْنَ عَلَی غَیْرِ أَزْوَاجِہِنَّ وَأَنَّ الاِسْتِثْنَائَ فِی قَوْلِہِ {إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} مَقْصُورٌ عَلَی السَّبَایَا بِأَنَّ السُّنَّۃَ دَلَّتَ عَلَی أَنَّ الْمَمْلُوکَۃَ غَیْرُ الْمَسْبِیَۃِ إِذَا بِیعَتْ أَوْ أُعْتِقَتْ لَمْ یَکُنْ بَیْعُہَا طَلاَقًا لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَیَّرَ بَرِیرَۃَ حِینَ عَتَقَتْ فِی الْمُقَامِ مَعَ زَوْجِہَا أَوْ فِرَاقِہِ وَقَدْ زَالَ مِلْکُ بَرِیرَۃُ بِأَنْ بِیعَتْ فَأُعْتِقَتْ فَکَانَ زَوَالُہُ لِمَعْنَیَیْنِ وَلَمْ یَکُنْ ذَلِکَ فُرْقَۃً قَالَ : فَإِذَا لَمْ یَحِلَّ فَرْجُ ذَوَاتِ الزَّوْجِ بِزَوَالِ الْمِلْکِ فَہِیَ إِذَا لَمْ تُبَعْ لَمْ تَحِلَّ بِمِلْکِ یَمِینٍ حَتَّی یُطَلِّقَہَا زَوْجُہَا قَالَ فِی الْقَدِیمِ وَمِمَّنْ قَالَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمْ قَالُوا : نِکَاحُ الزَّوْجِ بَعْدَ الشِّرَائِ ثَابِتٌ قَالَ وَمِمَّنْ قَالَ بَیْعُ الأَمَۃِ طَلاَقُہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَأَنَّہُمْ قَاسُوہَا عَلَی الْمَسْبِیَّۃِ وَحَدِیثُ بَرِیرَۃَ یَمْنَعُ مِنْ ہَذَا الْقِیَاسِ ثُمَّ الإِجْمَاعُ أَنَّ مَنْ زَوَّجَ أَمَتَہُ لَمْ یَمْلِکْ وَطْئَہَا وَہِیَ مِمَّا مَلَکَتْ یَمِینُہُ وَہَذَا مَعْنَی قَوْلِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الطلاق]
(١٣٩٥٨) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں : { وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ } سے مراد خاوندوں والی لونڈیاں ہیں۔
نوٹ : اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ خاوندوں والی لونڈیاں بھی اپنے خاوندوں کے علاوہ دوسروں پر حرام ہیں اور یہ جو استثناء ہے { اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } یہ صرف قیدی عورتوں کے ساتھ خاص ہے؛ کیونکہ غیر قیدی عورت جب اس کو فروخت یا آزاد کیا جائے تو اس کو فروخت کرنا اس کی طلاق نہیں ہوتی؛ کیونکہ حضرت بریرہ (رض) کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خاوند کے ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیا جب وہ آزاد ہوئی۔ بریرہ کی ملک زائل ہوئی، فروخت یا آزادی کی وجہ سے اس کا زائل ہونا دو طرح تھا، لیکن یہ جدائی نہ تھی۔ جب خاوند والی کی شرمگاہ ملک کے زائل ہونے کی وجہ سے حلال نہیں ہوئی یہ فروخت نہ کی گئی۔ یہ ملکیت بننے کی وجہ سے بھی حلال نہ ہوگی، جب تک اس کا خاوند طلاق نہ دے۔ یہ موقف حضرت عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، ابن عمر (رض) کا تھا کہ فروخت ہونے کے بعد بھی خاوند کا نکاح باقی رہتا ہے۔
اور جو کہتے ہیں کہ لونڈی کو فروخت کردینا اس کی طلاق ہے، وہ عبداللہ بن مسعود، ابن ابی کعب، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، انس بن مالک (رض) ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں : انھوں نے قیدی عورت پر قیاس کیا ہے اور حدیث بریرہ اس قیاس کو روکتی ہے۔ پھر اجماع ہے کہ جس نے اپنی لونڈی کی شادی کردی، وہ اس کی وطی کا مالک نہیں ہے اور یہ اس کی ہے جس کی ملکیت ہے۔