(۱۳۹۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بُہْلُولٍ الأَنْبَارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَیُّوبَ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الرَّجُلِ یَتْبَعُ الْمَرْأَۃَ حَرَامًا أَیَنْکِحُ ابْنَتَہَا أَوْ یَتْبَعُ الاِبْنَۃَ حَرَامًا أَیَنْکِحُ أُمَّہَا؟ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلاَلَ إِنَّمَا یُحَرِّمُ مَا کَانَ بِنِکَاحٍ حَلاَلٍ ۔ قَالَ إِسْحَاقُ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ وَبِہِ نَأْخُذُ۔ [ضعیف جداً۔ تقدم قبلہ]
(١٣٩٦٦) سیدہ عائشہ (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا، جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے، کیا وہ اس کی بیٹی سے نکاح کرے ؟ یا اس کی بیٹی سے زنا کرتا ہے تو وہ اس کی والدہ سے نکاح کرلے تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرام حلال کو حرام نہیں کرتا۔ نکاح صرف حلال ہی کرتا ہے۔ اسحاق کہتے ہیں کہ یہ عبداللہ بن نافع کا قول ہے اور اسی کو ہم بھی لیتے ہیں۔